لاکھ سے کم آمدن والے افراد کو 100روپے کے موبائل کارڈ پر ٹیکس کٹوتی سے مستثنیٰ قرار دیا جائے، داؤد اچکزئی‘ عملدرآمد کیلئے کیبنٹ ڈویژن اوروزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی حکام طلب

لاکھ سے کم آمدن والے افراد کو 100روپے کے موبائل کارڈ پر ٹیکس کٹوتی سے مستثنیٰ قرار دیا جائے، داؤد اچکزئی‘ عملدرآمد کیلئے کیبنٹ ڈویژن اوروزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی حکام طلب

100
0
Loading...
loading...
Advertisement

لاکھ سے کم آمدن والے افراد کو 100روپے کے موبائل کارڈ پر ٹیکس کٹوتی سے مستثنیٰ قرار دیا جائے، داؤد اچکزئی‘ عملدرآمد کیلئے کیبنٹ ڈویژن اوروزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی حکام طلب

2222222

Advertisement

موبائل کمپنیاں کو موبائل سم جاری کرتے وقت صارف کی تمام تفصیلات حاصل کرنے کیلئے پابند کیا جائے ، کمیٹی کنوینر نے قانون سازی پر بریفنگ کے لیے آئندہ اجلاس میں کیبنٹ ڈویژن اوروزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی کو طلب کر لیا اسلام آباد(آئی این پی) ایوان بالا کی ذیلی کمیٹی براٗے تفویض کردہ اختیارات نے حکومت کو ہدایت جاری کی ہے کہ 1لاکھ روپے سے کم آمدن والے افراد کو 100روپے کا موبائل کارڈ خریدنے یا ری چارج کرنے پر25روپے کی ٹیکس کٹوتی سے مستثنٰی قرار دیا جائے۔کمیٹی کے کنوینر سینیٹر داؤد خان اچکزئی نے پی ٹی اے کو ہدایت کی کہ وہ موبائل کمپنیوں کو پابند کرے کہ موبائل سم جاری کرتے وقت صارف کی تمام تفصیلات حاصل کی جائیں تاکہ جن صارفین کی آمدن کم ہو ٹیکس کٹوتی نہ ہو انہوں نے اس حوالے سے مجوزہ قانون سازی پر بریفنگ کے لیے آئندہ اجلاس میں کیبنٹ ڈویژن اوروزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی کو بھی طلب کر لیا۔جمعہ کو کمیٹی کا اجلاس کمیٹی کے کنوینر سینیٹر داؤد خان اچکزئی کی صدارت میں پارلیمنٹ ہاؤس منعقد ہوا۔ اجلاس میں سینیٹرز کلثوم پروین،جاوید عباسی،ایڈیشنل سیکرٹری وزارت آئی ٹی کے علاوہ اعلی افسران نے شرکت کی۔سینیٹر جاوید عباسی نے ٹیرف کے میکنز م اور پی ٹی اے ایکٹ کے نیچے ریگولیشنز اور پی ٹی اے کی انتظامی اور مالی حیثیت کے حوالے سے سوال اٹھایا۔سینیٹر کلثوم پروین نے کہا کہ کمیٹی کا مقصد رولز ریگولیشنز کا ایکٹس کے ساتھ متصادم نہ ہونا دیکھنا ہے۔کنوینر کمیٹی سینیٹر داؤد خان اچکزئی نے معاملات کا تفصیل سے جائزہ لینے کیلئے اگلے اجلاس میں کیبنٹ ڈویژن اوروزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی کی شرکت کی بھی ہدایت دی۔پی ٹی اے حکام نے کمیٹی کو بریفنگ دیتے ہوٗے آگاہ کیا گیا کہ پی ٹی اے خود مختار ادارہ ہے ۔ٹیلی کام ایکٹ کے تحت 22ریگولیشن بنائے ہیں وقتاًفوقتاً19ترامیم کی گئی ہیں۔پی ٹی اے نے ایف بی آر کے ساتھ ٹیکسز کے حوالے سے متعدد اجلاس منعقد کئے ہیں ۔پی ٹی اے کی تجویز پر ایف بی آر کنسلٹنٹ مقرر کر رہا ہے۔ایس ای سی پی کے تحت کمپنیاں مالی سال میں 120دن میں آڈٹ کرانے کی پابند ہیں۔مسابقت کے رولز پر کام مکمل ہوچکا رولز ریگولیشن کا گزٹ نوٹیفیکشن ہو چکا ہے۔پی ٹی اے کو رولز ریگولیشنز میں ترامیم کی ضرورت نہیں ایکٹ میں ترامیم وزارت کے ذریعے پارلیمنٹ کی منظوری سے کی جا سکتی ہے۔صارف کے تحفظ کیلئے ایک شق میں چار دفعہ ترمیم کی گئی ہے جن میں صارف کے حقوق ،شکایات کے میکنزم ،آپریٹرز ،سروس بند کرنے کا میکنزم اور انعامی سیکم شامل ہیں۔



Comments

Post comments

Loading...

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *